قرآنِ مجید کا بائیسواں پارہ انسان کے دل میں ایمان کی تازگی، صبر کی قوت اور اہلِ بیتِ رسولؐ کی محبت کی روشنی پیدا کرتا ہے۔
یہ پارہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کامیاب زندگی صرف عبادت اور الفاظ کے دعوؤں سے نہیں بنتی بلکہ اللہ، رسولؐ اور اہلِ بیتؑ سے حقیقی وابستگی سے بنتی ہے۔
اس پارے میں سورۃ الاحزاب کے وہ عظیم مضامین شامل ہیں جو رسولِ اکرم ﷺ کی شان اور مقام کو واضح کرتے ہیں اور امت کو یہ بتاتے ہیں کہ ہدایت کا راستہ رسولؐ کی اطاعت اور ان کے گھرانے کی محبت سے ہو کر گزرتا ہے۔
جب مدینہ میں دشمنوں نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور حالات انتہائی سخت ہو گئے تو قرآن نے مومنوں کے ایمان کا نقشہ یوں کھینچا:
"هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ"
(سورۃ الاحزاب: 22)
یعنی سچے مومنوں نے کہا کہ یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے کیا تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ مشکلات آتی ہیں مگر اہلِ ایمان کا دل متزلزل نہیں ہوتا۔ ان کا یقین مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی نصرت ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔
اسی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کے مقام کو اس بلند ترین انداز میں بیان کیا کہ پوری کائنات درود کے نور سے جگمگا اٹھی:
"إِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا"
(سورۃ الاحزاب: 56)
یہ آیت صرف درود پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ رسولِ خدا ﷺ اور ان کے پاکیزہ اہلِ بیتؑ سے قلبی تعلق کا اعلان ہے۔ اہلِ بیتؑ وہ چراغ ہیں جن کے ذریعے امت کو ہدایت کا راستہ دکھایا گیا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں:
قرآن اور اپنے اہلِ بیتؑ۔ جو ان دونوں سے وابستہ رہے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔
اہلِ بیتؑ کی محبت دراصل ایمان کی روح ہے۔
یہی محبت کربلا میں حضرت امام حسینؑ کی قربانی کو سمجھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
یہی محبت حضرت علیؑ کی عدالت، حضرت فاطمہؑ کی پاکیزگی اور ائمۂ اطہارؑ کی ہدایت کو دلوں میں زندہ رکھتی ہے۔
بائیسویں پارے میں سورۃ سبا کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو شکر اور ناشکری کا سبق بھی دیتا ہے۔
قومِ سبا کو اللہ نے بے شمار نعمتیں عطا کیں، مگر جب انہوں نے ناشکری اختیار کی تو ان کی آباد بستیاں ویران ہو گئیں۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نعمتوں کی حفاظت شکر سے اور ہدایت کی حفاظت ولایت سے ہوتی ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا مادیت، ظلم اور بے یقینی کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہمیں پھر سے قرآن اور اہلِ بیتؑ کے نور کی طرف لوٹنا ہوگا۔
یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو باطن کی پاکیزگی، کردار کی عظمت اور ایمان کی طاقت عطا کرتا ہے۔
اگر ہمارے دلوں میں قرآن کی روشنی، رسولِ اکرم ﷺ کی محبت اور اہلِ بیتؑ کی ولایت زندہ ہو جائے تو ہماری زندگیوں کے اندھیرے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
کیونکہ اہلِ بیتؑ ہدایت کے وہ چراغ ہیں جو قیامت تک انسانیت کو راستہ دکھاتے رہیں گے۔
اے اللہ!
ہمارے دلوں کو قرآن کے نور سے منور فرما۔
ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سچی محبت اور ان کے پاک اہلِ بیتؑ کی کامل ولایت عطا فرما۔
یا رب! ہمیں حضرت علیؑ کی معرفت، حضرت فاطمہؑ کی پاکیزگی، حضرت حسنؑ کے حلم اور حضرت حسینؑ کی قربانی سے سبق لینے والا بنا دے۔
اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری مشکلات کو آسان فرما اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرما۔
اور ہمیں قیامت کے دن محمدؐ و آلِ محمدؐ کے سایۂ رحمت میں جگہ عطا فرما۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ
No comments:
Post a Comment